جمہوریت کی مضبوطی یا نظام کی مجبوری؟⁦18⁩ویں ترمیم  کے بعد پارلیمنٹ کی نئی طاقت

شجاع الدين قريشی

پارلیمنٹ کے تسلسل نے پاکستان کی سیاست میں ایک بنیادی حقیقت ثابت کردی ہے۔ چاہے⁦28⁩ویں ترمیم کی قیاس آرائیاں ہوں، نئے صوبوں کی بحث ہو یا مارشل لا کی دھمکیاں، اب غیر جمہوری قوتوں کے لیے من مانی فیصلے کرنا پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔

آج حالات یہ ہیں کہ آمریت پسند عناصر کو بھی اپنے اقدامات کے لیے بالآخر پارلیمنٹ ہی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود ایک ایسی سیاسی حقیقت بن چکی ہے جو آمریت کے راستے میں بڑی رکاوٹ ثابت ہورہی ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے دوسری مرتبہ ایمرجنسی نافذ کرکے عملاً مارشل لا لگانے کی کوشش کی، مگر یہ نظام زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ اسی اقدام کے نتیجے میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی فوجی آمر کے خلاف آئین کے آرٹیکل⁦6⁩کے تحت غداری کا مقدمہ قائم ہوا اور عدالت نے انہیں سزائے موت بھی سنائی۔ اگرچہ اس فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوسکا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پارلیمانی نظام نے اپنی بالادستی منوا دی۔⁦26⁩ویں اور⁦27⁩ویں آئینی ترامیم بھی اسی حقیقت کا اظہار ہیں۔

خصوصاً⁦27⁩ویں ترمیم کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی نے واضح طور پر مؤقف اختیار کیا کہ⁦18⁩ویں ترمیم کے خاتمے یا اس کے رول بیک پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ بلاول بھٹو زرداری اس حوالے سے پہلے ہی اپنے مؤقف کا اظہار کرچکے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب پیپلز پارٹی نے مخالفت کی تو ترمیم⁦ ⁩اسی انداز سے آگے نہ بڑھ سکی، اور پوری قوم نے پارلیمنٹ میں اس معاملے کا انجام دیکھا۔

اب ایک بار پھر بجٹ سے قبل⁦28⁩ویں ترمیم کی باتیں کی جارہی ہیں۔ مختلف حلقے اور بعض یوٹیوبرز اس تاثر کو تقویت دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ ترمیم لازمی طور پر لائی جائے گی، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔

28 ویں آئینی ترمیم کیا ہے؟

مجوزہ⁦28⁩ویں آئینی ترمیم کچھ عرصے سے پاکستان میں ایک اہم سیاسی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس ترمیم میں ووٹ ڈالنے کی عمر⁦18⁩سال سے بڑھا کر⁦25⁩سال کرنے، بعض اختیارات کو صوبوں سے وفاق کو منتقل کرنے اور مقامی حکومتوں کے نظام میں تبدیلیوں کی تجاویز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نئے صوبے بنانے⁦ ⁩یا کراچی سمیت بڑے شہروں کو وفاق کے کنٹرول میں دینےکی مجوزہ تجاویز بھی گردش کررہی ہیں۔ 

ناقدین کے مطابق یہ تمام⁦ ⁩تجاویز آئین کی روح، جمہوری اقدار اور سیاسی عمل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ سب سے پہلے، ووٹنگ کی عمر⁦25⁩سال کرنے سے لاکھوں نوجوان اپنے بنیادی جمہوری حق سے محروم ہو جائیں گے۔ نوجوان آبادی کسی بھی جمہوری نظام کا اہم حصہ ہوتی ہے اور ان کی سیاسی شرکت کو محدود کرنا نمائندہ جمہوریت کے اصولوں کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح اگر کچھ صوبائی اختیارات واپس وفاق کو منتقل کیے جاتے ہیں تو یہ⁦18⁩ویں ترمیم کے ذریعے حاصل ہونے والی صوبائی خودمختاری کو کمزور کر سکتا ہے۔ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں چار صوبے مل کر وفاق کو بناتے ہیں۔ اختیارات کی منصفانہ تقسیم قومی یکجہتی اور جمہوری استحکام کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔

مزید یہ کہ آئینی تبدیلیاں وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر کی جائیں تو سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں، صوبوں اور متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لیا جائے۔ اسی لیے بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ مجوزہ⁦28⁩ویں ترمیم پر مکمل قومی مکالمہ اور پارلیمانی بحث ہونی چاہیے تاکہ آئین، جمہوریت اور سیاسی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔

18ویں ترمیم کو ختم کرنا یا اس کی روح کو کمزور کرنا دراصل سیاسی جماعتوں کے اپنے وجود کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا، اس لیے اس معاملے پر وسیع سیاسی اتفاق رائے پیدا ہونا انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔

غیر جمہوری قوتیں آج نہ آسانی سے ایمرجنسی نافذ کرسکتی ہیں، نہ گورنر راج اور نہ ہی کھلے عام مارشل لا لگا سکتی ہیں۔ آئین سے ماورا اقدامات اب پہلے کی طرح آسان نہیں رہے، کیونکہ پارلیمنٹ اپنی موجودگی اور تسلسل کے ذریعے ایک سیاسی مزاحمت بن چکی ہے۔ اس کی ایک بڑی⁦ ⁩مثال عمران خان کے دور میں بھی دیکھی گئی، جب قومی اسمبلی تحلیل کردی گئی تھی، مگر یہ فیصلہ خود انہی کے لیے سیاسی بحران بن گیا۔

سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد قومی اسمبلی بحال ہوئی اور اس نے اپنی آئینی مدت مکمل کی۔ اسی طرح اس سے قبل سپریم کورٹ کے حکم پر نواز شریف کی نااہلی کے باوجود قومی اسمبلی تحلیل نہیں ہوئی بلکہ مسلم لیگ⁦(⁩ن) نے نیا قائدِ ایوان شاہد خاقان عباسی کو منتخب کیا اور اپنی آئینی مدت پوری کی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈال کر مطلوبہ آئینی ترامیم کرائی جاتی رہی ہیں، اور آج بھی ایسی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم، چارٹر آف ڈیموکریسی اور⁦18⁩ویں ترمیم جیسے سیاسی معاہدے اب اس حد تک⁦ ⁩اتنے تو مضبوط ہوچکے ہیں کہ ان کےتخت کیے گئے آئینی فیصلے مکمل طور پر ختم کرنا⁦ ⁩اتنا آسان نہیں رہا۔

البتہ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، این ایف سی ایوارڈ پر مکمل عمل درآمد میں تاخیر، واٹر اکارڈ کی خلاف ورزیاں اور کونسل آف کامن انٹرسٹ کے اجلاسوں میں غیر معمولی تعطل جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔ اسی طرح عام انتخابات میں  مبینہ دھاندلی کے الزامات اور اداروں کی سیاست میں مداخلت اب بھی جاری ہے اور کبھی کبھی ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ان میں اضافہ ہوگیا ہے، مگر ان سب کے باوجود جمہوریت قائم ہے۔

آپ کو یاد ہوگا کہ⁦2023⁩میں جب قومی اسمبلی نے اپنی⁦5⁩سالہ مدت پوری کی تو⁦90⁩دن کے اندر نئے عام انتخابات منعقد نہیں ہوئے تھے، جو کہ سریحاً آئینی خلاف ورزی تھی، مگر سپریم کورٹ کے ذریعے⁦ ⁩اس کو قانونی⁦ ⁩جواز کے طور پر پیش کیا گیا اور آخر کار⁦8⁩فروری⁦2024⁩کو عام انتخابات سپریم کورٹ کے حکم کے تحت منعقد کیے گئے۔ 

مشترکہ مفادات کائونسل کی بےتوقیری

آئین کے آرٹیکل 154(3)  کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل⁦(⁩سی سی آٗئی⁦) ⁩کا اجلاس ہر تین ماہ بعد ہونا چاہیے، مگر کئی بار برسوں تک اجلاس منعقد نہیں کیے جاتے۔سی سی آئی کا آخری اجلاس    ایک سال پہلے⁦28⁩اپریل⁦2025⁩کوہوا تھا، وہ بھی ایمرجنسی میں بلایا گیا تھا کیوں کہ سندھ کینالز کے مسئلے پر سراپا احتجاج تھا اور سندھ⁦-⁩پنجاب بارڈر پر ببرلو کے مقام پران کنالز کی تعمیر کے خلاف طویل دھرنا جاری تھا۔ 

اس جمہوری حکومت کے یہ تمام اقدامات آئین کی روح سے متصادم ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس مسئلے کو بھی آخرکا ر آئینی طریقے سے ہی حل کرنا پڑا۔  آئینی ماہرین کے مطابق ان تمام خرابیوں کے باوجود اگر پارلیمنٹ مزید چند ادوار تک اپنی پانچ سالہ آئینی مدتیں مکمل کرتی رہی تو پاکستان میں مارشل لا کے امکانات بتدریج ہمیشہ کے لیے ختم ہوسکتے ہیں۔

28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے یہ تاثر ضرور موجود ہے کہ اسے لانے اور منظور کرانے کے امکانات خاصے مضبوط ہیں، تاہم اس ترمیم کی نوعیت ممکنہ طور پر ویسی نہیں ہوگی جیسی بعض حلقے پیش کررہے ہیں۔

سیاسی اور آئینی حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ⁦18⁩ویں ترمیم کو مکمل طور پر رول بیک کرنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ خود حکومتی اتحاد کے لیے بھی سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ مسلم لیگ⁦(⁩ن) کا مضبوط ترین سیاسی مرکز، صوبہ پنجاب، بھی این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی یا بعض اختیارات اور محکمے دوبارہ وفاق کو منتقل کرنے کے معاملے میں مکمل آمادگی دکھائی نہیں دیتا۔

پی ایم ایل این⁦ ⁩والے بخوبی جانتے ہیں کہ طویل سیاسی جدوجہد اور وسیع اتفاق رائے کے بعد منظور ہونے والی⁦18⁩ویں ترمیم اگر ایک بار کمزور یا واپس کردی گئی تو آئینی توازن کو دوبارہ اسی سطح پر بحال کرنا⁦ ⁩اتنا آسان نہیں ہوگا۔ یہ بھی ایک سیاسی حقیقت ہے کہ موجودہ وفاقی ڈھانچہ اور اختیارات کی تقسیم نہ صرف چھوٹے صوبوں بلکہ خود مسلم لیگ⁦)⁩ن) اور پنجاب کے سیاسی مفادات کے لیے بھی موزوں سمجھی جاتی ہے۔آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باعث پنجاب این ایف سی میں سب سے بڑا حصہ لے جاتا ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وفاق کےزیادہ تر ترقیاتی منصوبے پنجاب میں ہی لگے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ تمام تر سیاسی بحث اور دباؤ کے باوجود نظام کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کے بجائے اسے کسی حد تک برقرار رکھنے کی کوشش زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔

این ایف سی اوارڈ میں تبدیلیاں

 این ایف سی (National Finance Commission) ایوارڈ پاکستان میں وفاق اور صوبوں کے درمیان ٹیکس آمدنی کی تقسیم کا نظام ہے۔ آئین کے آرٹیکل⁦160⁩کے تحت⁦ ⁩این ایف سی کمیشن تشکیل دیا جاتا ہے تاکہ وفاق اور چاروں صوبوں کے درمیان مالی وسائل منصفانہ انداز میں تقسیم کیے جا سکیں۔

 آخری متفقہ این ایف سی ایوارڈ⁦2009⁩میں طے پایا تھا اور اس کا نفاذ یکم جولائی⁦2010⁩سے ہوا۔ اس ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کا حصہ بڑھا کر پہلے سال⁦56⁩فیصد اور بعد ازاں⁦57.5⁩فیصد کر دیا گیا، جبکہ وفاق کا حصہ کم ہوا۔ اس کے بعد این ایف سی اوارڈ دیا ہی نہیں گیا۔ اس اوارڈ کے تحت چھوٹے صوبے خاص طور پر بلوچستان اور سندھ ہر سال شکایت کرتے ہیں کہ ان کو اپنا حصہ نہیں مل رہا ہے۔

 اب وفاقی حکومت مجوزہ آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حصے کو ہی کم کرنا چاہتی ہے اور دفاع کی مد میں مزید فنڈز کے لیے وہ زائد فنڈز کا تقاضہ کررہی ہے۔

وفاقی حکومت کے بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ دفاع، قرضوں کی ادائیگی، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر قومی اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث وفاق کو زیادہ مالی وسائل درکار ہیں۔ اسی وجہ سے این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے پر نظرثانی کی بات کی جاتی ہے تاکہ وفاق کے مالی مسائل کم ہو سکیں۔

 دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی اس کی مخالفت کررہ ہے کیونکہ اس کے نزدیک⁦18⁩ویں ترمیم اور ساتواں این ایف سی ایوارڈ صوبائی خودمختاری کی بنیاد ہیں۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ صوبوں کا حصہ کم کرنے سے وفاقی نظام کمزور ہوگا، صوبوں کے مالی اختیارات متاثر ہوں گے اور تعلیم، صحت اور دیگر عوامی خدمات کے لیے دستیاب وسائل میں کمی آ سکتی ہے۔

یہاں تک کہ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو⁦ ⁩نےایک بیان میں⁦ ⁩کہا تھا کہ ایف بی آر کی نااہلی کی وجہ سے اگر وفاق ٹیکسز کی وصولی کا حدف حاصل نہیں کرسکا ہے،تو ٹیکس وصولی کے اختیارات صوبوں کو منتقل کیے جائیں ۔ اس کی بڑی دلیل انہوں نے دی کہ کیوں کہ صوبے پہلے ہی سے سروسز پر جی ایس ٹی حدف سے زیادہ وصول کررہے ہیں،⁦ ⁩اس لیے باقی⁦ ⁩ٹیکسز بھی باآسانی⁦ ⁩لے سکتے ہیں۔ 

 پی پی پی کے مطابق  این ایف سی ایوارڈ کا معاملہ صرف مالی نہیں بلکہ وفاقی ڈھانچے، صوبائی خودمختاری اور سیاسی اتفاقِ رائے سے بھی جڑا ہوا ایک اہم قومی مسئلہ ہے۔اور اس کو چھیڑنے سے وفاق کو نقصان ہوسکتا ہے۔

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *